EN हिंदी
وہ احتیاط کا عالم پس سوال کوئی | شیح شیری
wo ehtiyat ka aalam pas-e-sawal koi

غزل

وہ احتیاط کا عالم پس سوال کوئی

جاوید ناصر

;

وہ احتیاط کا عالم پس سوال کوئی
بچا ہے رات کے حملے سے بال بال کوئی

دکھائی دیتی ہے پہلے تو روشنی گھر کی
نفی میں سر کو ہلاتا ہے پھر خیال کوئی

دھڑک رہا ہے دعاؤں کی رونقیں لے کر
مرے وجود گریزاں میں لا زوال کوئی

ملیں گے خواب بھی دیدار کرنے والوں میں
پڑا ہے پیڑ کی چھاؤں میں پائمال کوئی