وہ احتیاط کا عالم پس سوال کوئی
بچا ہے رات کے حملے سے بال بال کوئی
دکھائی دیتی ہے پہلے تو روشنی گھر کی
نفی میں سر کو ہلاتا ہے پھر خیال کوئی
دھڑک رہا ہے دعاؤں کی رونقیں لے کر
مرے وجود گریزاں میں لا زوال کوئی
ملیں گے خواب بھی دیدار کرنے والوں میں
پڑا ہے پیڑ کی چھاؤں میں پائمال کوئی
غزل
وہ احتیاط کا عالم پس سوال کوئی
جاوید ناصر

