وہ دن کتنا اچھا تھا
میں جی بھر کے رویا تھا
ہوا ٹھمک کے چلتی تھی
ہاتھوں میں گلدستہ تھا
ہوک سی اٹھتی تھی دل میں
اونچا نیچا رستہ تھا
یہی پیڑ تھے پہلے بھی
یہیں کہیں اک چشمہ تھا
چشمے کا سویا پانی
مجھے دیکھ کے چونکا تھا
پانی چھوڑ کے اک گیدڑ
اک جھاڑی میں لپکا تھا
دو مینڈک ٹرائے تھے
ایک پرندہ چیخا تھا
اک کچھوا اک پتھر پر
پتھر بن کے بیٹھا تھا
میں پانی میں اترا تو
پانی زور سے اچھلا تھا
پہلے بھی اس جنگل سے
ایک بار میں گزرا تھا
لیکن پہلی بار علویؔ
یاد نہیں کیا سوچا تھا
غزل
وہ دن کتنا اچھا تھا
محمد علوی

