EN हिंदी
وہ دلبری کا اس کی جو کچھ حال ہے سو ہے | شیح شیری
wo dilbari ka uski jo kuchh haal hai so hai

غزل

وہ دلبری کا اس کی جو کچھ حال ہے سو ہے

میر حسن

;

وہ دلبری کا اس کی جو کچھ حال ہے سو ہے
اور اپنی دل دہی کا جو احوال ہے سو ہے

مت پوچھ اس کی زلف کی الجھیڑے کا بیان
یہ میری جان کے لیے جنجال ہے سو ہے

نیکی بدی کا کوئی کسی کے نہیں شریک
جو اپنا اپنا نامۂ اعمال ہے سو ہے

پس جائے کوئی ہو یا کہ پامال اس کو کیا
اس گردش فلک کی جو کچھ چال ہے سو ہے

وے ہی علم میں آہوں کے ویسی ہی فوج اشک
اب تک غم و الم کا جو اقبال ہے سو ہے

ایسا تو وہ نہیں جو مرا چارہ ساز ہو
پھر فائدہ کہے سے جو کچھ حال ہے سو ہے

شکوہ مجھے تو سوزن مژگاں سے کچھ نہیں
دل خار خار آہ سے غربال ہے سو ہے

نقش قدم کی طرح حسنؔ اس کی راہ میں
اپنا یہ دل سدا سے جو پامال ہے سو ہے