EN हिंदी
وہ دل جو تھا کسی کے غم کا محرم ہو گیا رسوا | شیح شیری
wo dil jo tha kisi ke gham ka mahram ho gaya ruswa

غزل

وہ دل جو تھا کسی کے غم کا محرم ہو گیا رسوا

حرمت الااکرام

;

وہ دل جو تھا کسی کے غم کا محرم ہو گیا رسوا
جہان بیش و کم میں خواب آدم ہو گیا رسوا

نہ چونکا نکہت آوارہ کی روداد پر کوئی
یہ کیوں افسانۂ‌ پرواز شبنم ہو گیا رسوا

دکھائی اہل دل کو منزل دار و رسن جس نے
تمہاری کج کلاہی کا وہ عالم ہو گیا رسوا

امانت سینۂ لالہ میں کس کی تھی نہ یہ پوچھو
کہ سعی پردہ داری میں مرا غم ہو گیا رسوا

ہے آئینے کی حیرانی بھی افسانہ در افسانہ
ترے اسرار محجوبی کا محرم ہو گیا رسوا

پسند آئی غزل کو میرؔ کی آشفتہ سامانی
ترا راز آشنا اے زلف برہم ہو گیا رسوا

خبر کیا تھی کہ آنسو پی کے بھی جینا نہیں آساں
یہ غم کم ہے گداز شیوۂ غم ہو گیا رسوا

بسانا تھا کسی حیلے سے دنیا کے خرابے کو
یہ ایسی مصلحت تھی جس پہ آدم ہو گیا رسوا

عجب طرز مداوا تھا ہمارے چارہ سازوں کا
کہ حرمتؔ ارتباط زخم و مرہم ہو گیا رسوا