EN हिंदी
وہ بھی کہتا تھا کہ اس غم کا مداوا ہی نہیں | شیح شیری
wo bhi kahta tha ki us gham ka mudawa hi nahin

غزل

وہ بھی کہتا تھا کہ اس غم کا مداوا ہی نہیں

حسن نعیم

;

وہ بھی کہتا تھا کہ اس غم کا مداوا ہی نہیں
دل جلانے کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں

زور وحشت بھی اگر کم ہو تو چلنا ہے مدام
سر چھپانے کے لیے دشت میں سایہ ہی نہیں

جل کے ہم راکھ ہوئے ہیں کہ بنے ہیں کندن
جوہری بن کے کسی شخص نے پرکھا ہی نہیں

گرد شہرت کو بھی دامن سے لپٹنے نہ دیا
کوئی احسان زمانے کا اٹھایا ہی نہیں

میری آنکھوں میں وہی شوق تماشا تھا نعیمؔ
اس نے جھک کر مری تصویر کو دیکھا ہی نہیں