وہ بھی کہتا تھا کہ اس غم کا مداوا ہی نہیں
دل جلانے کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں
زور وحشت بھی اگر کم ہو تو چلنا ہے مدام
سر چھپانے کے لیے دشت میں سایہ ہی نہیں
جل کے ہم راکھ ہوئے ہیں کہ بنے ہیں کندن
جوہری بن کے کسی شخص نے پرکھا ہی نہیں
گرد شہرت کو بھی دامن سے لپٹنے نہ دیا
کوئی احسان زمانے کا اٹھایا ہی نہیں
میری آنکھوں میں وہی شوق تماشا تھا نعیمؔ
اس نے جھک کر مری تصویر کو دیکھا ہی نہیں
غزل
وہ بھی کہتا تھا کہ اس غم کا مداوا ہی نہیں
حسن نعیم

