EN हिंदी
وہ بہتے دریا کی بے کرانی سے ڈر رہا تھا | شیح شیری
wo bahte dariya ki be-karani se Dar raha tha

غزل

وہ بہتے دریا کی بے کرانی سے ڈر رہا تھا

دلاور علی آزر

;

وہ بہتے دریا کی بے کرانی سے ڈر رہا تھا
شدید پیاسا تھا اور پانی سے ڈر رہا تھا

نظر نظر کی یقیں پسندی پہ خوش تھی لیکن
بدن بدن کی گماں رسانی سے ڈر رہا تھا

سبھی کو نیند آ چکی تھی یوں تو پری سے مل کر
مگر وہ اک طفل جو کہانی سے ڈر رہا تھا

لرزتے ہونٹوں سے گر پڑے تھے حروف اک دن
دل اپنے جذبوں کی ترجمانی سے ڈر رہا تھا

لغات جاں سے کشید کرتے ہوئے سخن کو
میں ایک حرف غلط معانی سے ڈر رہا تھا

جما ہوا خون ہے رگوں میں نہ جانے کب سے
رکا ہوا خواب ہے روانی سے ڈر رہا تھا

وہ بے نشاں ہے جسے نشاں کی ہوس تھی آزرؔ
وہ رائیگاں ہے جو رائیگانی سے ڈر رہا تھا