EN हिंदी
وہ بات بات پہ جی بھر کے بولنے والا | شیح شیری
wo baat baat pe ji bhar ke bolne wala

غزل

وہ بات بات پہ جی بھر کے بولنے والا

راجیندر منچندا بانی

;

وہ بات بات پہ جی بھر کے بولنے والا
الجھ کے رہ گیا ڈوری کو کھولنے والا

لو سارے شہر کے پتھر سمیٹ لائے ہیں ہم
کہاں ہے ہم کو شب و روز تولنے والا

ہمارا دل کہ سمندر تھا اس نے دیکھ لیا
بہت اداس ہوا زہر گھولنے والا

کسی کی موج فراواں سے کھا گیا کیا مات
وہ اک نظر میں دلوں کو ٹٹولنے والا

وہ آج پھر یہی دہرا کے چل دیا بانیؔ
میں بھول کے نہیں اب تجھ سے بولنے والا