EN हिंदी
وہ اور تسلی مجھے دیں ان کی بلا دے | شیح شیری
wo aur tasalli mujhe den unki bala de

غزل

وہ اور تسلی مجھے دیں ان کی بلا دے

بیخود دہلوی

;

وہ اور تسلی مجھے دیں ان کی بلا دے
جاتے ہوئے فرما تو گئے صبر خدا دے

ہر بات کا اللہ نے بخشا ہے سلیقہ
لڑنا بھی مزا دے ترا ملنا بھی مزا دے

اس طرح بھی غش سے کہیں ہوتا ہے افاقہ
یا زلف سنگھا یا مجھے دامن کی ہوا دے

دم چڑھنے لگا غصے کے تیور جو بنائے
نازک ہو جو اتنا وہ مجھے خاک سزا دے

کمبخت نے سب کھول دیئے راز محبت
یہ کس نے کہا تھا تجھے بیخودؔ کو پلا دے