وہ آنکھ میرے لیے نم ہے کیا کیا جائے
اسے بھی آج مرا غم ہے کیا کیا جائے
ترے بغیر کہیں میرا جی نہیں لگتا
ترے بغیر یہ عالم ہے کیا کیا جائے
سحر قریب ہے اب کیا وہ آئیں گے ملنے
امید وصل بہت کم ہے کیا کیا جائے
خطا معاف خطائیں تو ہم سے ہوں گی ضرور
کہ یہ تو فطرت آدم ہے کیا کیا جائے
الٰہی اب کوئی چارہ نہیں دعا کے سوا
مریض ہجر لب دم ہے کیا کیا جائے
وہ مجھ سے ملنے کو آئے ہیں میری موت کے بعد
خوشی بھی میرے لیے غم ہے کیا کیا جائے
برستے رہتے ہیں دن رات ہجر میں پرنمؔ
یہ حال دیدۂ پر نم ہے کیا کیا جائے
غزل
وہ آنکھ میرے لیے نم ہے کیا کیا جائے
پرنم الہ آبادی