EN हिंदी
وہ عالم ہے کہ ہر موج نفس ہے روح پر بھاری | شیح شیری
wo aalam hai ki har mauj-e-nafas hai ruh par bhaari

غزل

وہ عالم ہے کہ ہر موج نفس ہے روح پر بھاری

حرمت الااکرام

;

وہ عالم ہے کہ ہر موج نفس ہے روح پر بھاری
خدا جانے یہ جینا ہے کہ جینے کی اداکاری

خدا وندا ترے ذوق عطا کو کیا کہے کوئی
ملی ہے ہم سے خفتہ قسمتوں کو دل کی بیداری

ڈراتا کیا دل سرکش کو احساس سزا لیکن
لرز جاتا ہے نام عفو سے ناز خطا کاری

نظر اٹھی کسی کی دل نے اک پیغام سا پایا
یہ لمحہ ہے کہ ہم اڑتی ہوئی سی کوئی چنگاری

اٹھائے زندگی کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہوں میں
تمنائے سبکساری نہ احساس گرانباری

مٹائی جائے گی یہ مسکراتی ناچتی دنیا
ازل سے صرف اک دن کے لیے کیا کیا ہے تیاری

فرشتے رشک سے کیا کیا نہ تکتے ہیں اسے حرمتؔ
کوئی کرتا ہے پہلی بار جب عزم گنہ گاری