EN हिंदी
وہ آئے نگار میں نہ مانوں | شیح شیری
wo aae nigar main na manun

غزل

وہ آئے نگار میں نہ مانوں

پنڈت جواہر ناتھ ساقی

;

وہ آئے نگار میں نہ مانوں
آ جائے قرار میں نہ مانوں

وہ ہمدم غیر ہو گیا ہے
دم ساز ہو یار میں نہ مانوں

دزدیدہ نظر میں ایک نظر ہے
وہ ہوں نہ دو چار میں نہ مانوں

جو وقت گیا وہ پھر کہاں ہے
چھوٹے وہ شکار میں نہ مانوں

کھٹکا نہ ہو آمد خزاں کا
اے باغ و بہار میں نہ مانوں

باز آئے تو اپنی شوخیوں سے
اے فتنہ شعار میں نہ مانوں

آرام ملے جہاں میں اس کو
تو جس کا ہو یار میں نہ مانوں

نالوں میں تیرے اثر ہو پیدا
اے ساقیؔ زار میں نہ مانوں