وزن اب ان کا معین نہیں ہو سکتا کچھ
برف کی طرح مسلمان گھلے جاتے ہیں
داغ اب ان کی نظر میں ہیں شرافت کے نشاں
نئی تہذیب کی موجوں سے دھلے جاتے ہیں
علم نے رسم نے مذہب نے جو کی تھی بندش
ٹوٹی جاتی ہے وہ سب بند کھلے جاتے ہیں
شیخ کو وجد میں لائی ہیں پیانوں کی گتیں
پیچ دستار فضیلت کے کھلے جاتے ہیں
غزل
وزن اب ان کا معین نہیں ہو سکتا کچھ (ردیف .. ن)
اکبر الہ آبادی

