EN हिंदी
وزن اب ان کا معین نہیں ہو سکتا کچھ (ردیف .. ن) | شیح شیری
wazn ab un ka muayyan nahin ho sakta kuchh

غزل

وزن اب ان کا معین نہیں ہو سکتا کچھ (ردیف .. ن)

اکبر الہ آبادی

;

وزن اب ان کا معین نہیں ہو سکتا کچھ
برف کی طرح مسلمان گھلے جاتے ہیں

داغ اب ان کی نظر میں ہیں شرافت کے نشاں
نئی تہذیب کی موجوں سے دھلے جاتے ہیں

علم نے رسم نے مذہب نے جو کی تھی بندش
ٹوٹی جاتی ہے وہ سب بند کھلے جاتے ہیں

شیخ کو وجد میں لائی ہیں پیانوں کی گتیں
پیچ دستار فضیلت کے کھلے جاتے ہیں