وصل کیا ہے شمع جلا کر
پروانے کو راکھ بنا کر
کبھی طلب نہ پاؤں سمیٹے
چھوٹی پڑ جائے ہر چادر
وہ کیا چین سے سویا ہوگا
میری نیند کو پنکھ لگا کر
میں تو سب کچھ بھول چکا ہوں
تو بھولے تو بات برابر
دیواروں کی تنہائی کو
دور کروں تصویر لگا کر
غزل
وصل کیا ہے شمع جلا کر
پریم بھنڈاری

