EN हिंदी
وصل کیا ہے شمع جلا کر | شیح شیری
wasl kiya hai shama jala kar

غزل

وصل کیا ہے شمع جلا کر

پریم بھنڈاری

;

وصل کیا ہے شمع جلا کر
پروانے کو راکھ بنا کر

کبھی طلب نہ پاؤں سمیٹے
چھوٹی پڑ جائے ہر چادر

وہ کیا چین سے سویا ہوگا
میری نیند کو پنکھ لگا کر

میں تو سب کچھ بھول چکا ہوں
تو بھولے تو بات برابر

دیواروں کی تنہائی کو
دور کروں تصویر لگا کر