وقت مزدور ہے اجرت دیجے
ایک اک لمحے کی قیمت دیجے
مجھ سے یہ بوجھ نہیں اٹھ سکتا
مشورہ کوئی مجھے مت دیجے
ہجر کی رات نہیں ڈھلنے کی
اب چراغوں کو اجازت دیجے
کام کچھ دل کے ہیں کچھ دنیا کے
اک ذرا سی مجھے مہلت دیجے
دل کو آباد ہی کرنا ہے تو پھر
وہی دیوار وہی چھت دیجے
دل ہے دنیا تو نہیں ہے کوئی
جتنی چاہے اسے وسعت دیجے
خود بھی رکھ سکتے ہیں ہم اپنا خیال
کیا کسی اور کو زحمت دیجے
غزل
وقت مزدور ہے اجرت دیجے
کاشف حسین غائر

