EN हिंदी
وقت مزدور ہے اجرت دیجے | شیح شیری
waqt mazdur hai ujrat dije

غزل

وقت مزدور ہے اجرت دیجے

کاشف حسین غائر

;

وقت مزدور ہے اجرت دیجے
ایک اک لمحے کی قیمت دیجے

مجھ سے یہ بوجھ نہیں اٹھ سکتا
مشورہ کوئی مجھے مت دیجے

ہجر کی رات نہیں ڈھلنے کی
اب چراغوں کو اجازت دیجے

کام کچھ دل کے ہیں کچھ دنیا کے
اک ذرا سی مجھے مہلت دیجے

دل کو آباد ہی کرنا ہے تو پھر
وہی دیوار وہی چھت دیجے

دل ہے دنیا تو نہیں ہے کوئی
جتنی چاہے اسے وسعت دیجے

خود بھی رکھ سکتے ہیں ہم اپنا خیال
کیا کسی اور کو زحمت دیجے