EN हिंदी
وقت کی بازگشت سے کب یہ ہوا کہ ڈر گئے | شیح شیری
waqt ki bazgasht se kab ye hua ki Dar gae

غزل

وقت کی بازگشت سے کب یہ ہوا کہ ڈر گئے

اسعد بدایونی

;

وقت کی بازگشت سے کب یہ ہوا کہ ڈر گئے
درد کی دھوپ ڈھل گئی ہجر کے دن گزر گئے

تیز قدم نکل گئے دھوپ کی سرحدوں سے دور
راہ کی چھاؤں دیکھ کر سست قدم ٹھہر گئے

لوگ بھی ہیں نئے نئے شہر بھی ہیں نئے نئے
باتیں وہ کھو گئیں کہاں رستے وہ سب کدھر گئے

بارش رنگ و نور سے جان چمن میں پڑ گئی
پھول تمام کھل اٹھے پیڑ سبھی نکھر گئے

لے کے چلے تھے نرمیاں گھر سے گلوں کی صبح کو
برگ خزاں تھے شام جب لوٹ کے اپنے گھر گئے

ہم کو ہوائے وقت نے دی ہے شکست بارہا
سیپ کی طرح بند تھے گل کی طرح بکھر گئے

شعر لکھوں تو کس طرح نظم کہوں تو کیوں بھلا
میری زبان چھن گئی ہاتھ مرے کتر گئے

توڑنا تھیں روایتیں موڑنا تھیں حکایتیں
لوگ وہ خود پسند تھے ہنستے ہوئے جو مر گئے