EN हिंदी
ولولے جب ہوا کے بیٹھ گئے | شیح شیری
walwale jab hawa ke baiTh gae

غزل

ولولے جب ہوا کے بیٹھ گئے

فہمی بدایونی

;

ولولے جب ہوا کے بیٹھ گئے
ہم بھی شمعیں بجھا کے بیٹھ گئے

وقت آیا جو تیر کھانے کا
مشورے دور جا کے بیٹھ گئے

عید کے روز ہم پھٹی چادر
پچھلی صف میں بچھا کے بیٹھ گئے

کوئی بارات ہی نہیں آئی
رت جگے گا بجا کے بیٹھ گئے

ناؤ ٹوٹی تو سارے پردہ نشیں
سامنے نا خدا کے بیٹھ گئے

بے زبانی میں اور کیا کرتے
گالیاں سن سنا کے بیٹھ گئے