وجود دل کے دروازوں کی کنجی کون رکھتا ہے
فقیروں کے برابر گنج مخفی کون رکھتا ہے
وہاں پہنچا دیا ہے مجھ کو انگشت تفکر نے
جہاں میرے سوا یاد الٰہی کون رکھتا ہے
یہ قطرہ کون ہے یہ نقش عریاں بیج ہے کس کا
بدن میں سنگ بنیاد معانی کون رکھتا ہے
جلا کر خیر اشیا کو تنور چشم ہستی میں
نظر کوئی بقا پر اتنی گہری کون رکھتا ہے
لہو صہبا بدن مینائے خاکی بن گیا کاوشؔ
ذرا دیکھو تو یوں فیضان ساقی کون رکھتا ہے
غزل
وجود دل کے دروازوں کی کنجی کون رکھتا ہے
کاوش بدری

