EN हिंदी
ویسے تو بہت دھویا گیا گھر کا اندھیرا | شیح شیری
waise to bahut dhoya gaya ghar ka andhera

غزل

ویسے تو بہت دھویا گیا گھر کا اندھیرا

آفتاب اقبال شمیم

;

ویسے تو بہت دھویا گیا گھر کا اندھیرا
نکلا نہیں دیوار کے اندر کا اندھیرا

کچھ روشنیٔ طبع ضروری ہے وگرنہ
ہاتھوں میں اتر آتا ہے یہ سر کا اندھیرا

وہ حکم کہ ہے عقل و عقیدہ پہ مقدم
چھٹنے ہی نہیں دیتا مقدر کا اندھیرا

کیا کیا نہ ابوالہول تراشے گئے اس سے
جیسے یہ اندھیرا بھی ہو پتھر کا اندھیرا

دیتی ہے یہی وقت کی توریت گواہی
زر کا جو اجالا ہے وہ ہے زر کا اندھیرا

ہر آنکھ لگی ہے افق دار کی جانب
سورج سے کرن مانگتا ہے ڈر کا اندھیرا