EN हिंदी
وحشت ہے بہت کم تو ہے زنجیر زیادہ | شیح شیری
wahshat hai bahut kam to hai zanjir ziyaada

غزل

وحشت ہے بہت کم تو ہے زنجیر زیادہ

ہمدم کاشمیری

;

وحشت ہے بہت کم تو ہے زنجیر زیادہ
چھوٹا سا مرا خواب ہے تعبیر زیادہ

کیا جان میری صرف سلگنے کے لئے ہے
کیجے نہ مرے جسم کی تفسیر زیادہ

کس موڑ پہ دیوان کے میں رک سا گیا ہوں
غالبؔ سے نظر آنے لگا میرؔ زیادہ

کرتا ہوں اسی واسطے تدبیر بہت کم
ہر کام میں کام آتی ہے تعبیر زیادہ

کب تک یہ مرا زعم یہ احساس رہے گا
دنیا میں بہت خوب ہے کشمیر زیادہ