وہی میں ہوں وہی خالی مکاں ہے
مرے کمرے میں پورا آسماں ہے
دیار خواب و چشم دل فگاراں
جزیرہ نیند کا کیوں درمیاں ہے
سکوت مرگ طاری ہر شجر پر
یہ کیسا موسم تیغ و سناں ہے
چمن افسردہ گل مرجھا گئے ہیں
خزاں کی زد پہ سارا گلستاں ہے
بھلا دی آپ نے بھی وہ کہانی
محبت جس کے دم سے جاوداں ہے
غزل
وہی میں ہوں وہی خالی مکاں ہے
فاروق نازکی

