EN हिंदी
وہی مدار تمنا وہی ستارۂ دل | شیح شیری
wahi madar-e-tamanna wahi sitara-e-dil

غزل

وہی مدار تمنا وہی ستارۂ دل

محمد اعظم

;

وہی مدار تمنا وہی ستارۂ دل
فریب خوردۂ ماضی و حال و مستقبل

طلسم خانۂ حسرت میں گردشیں کب تک
وہ اسم دے کہ ہو آسیب جستجو باطل

دل کشادہ میں میرے ہو انجمن آرا
عدو برنگ کدورت جہاں نہ ہو داخل

ہزار شعلہ لپکتی ہے آرزو اب بھی
مرے لہو سے چراغاں ہے کوچۂ قاتل

رہ وفا کے مسافر کی بے بسی مت پوچھ
ہمیں اٹھائے ہوئے چل رہی ہے خود منزل

خوشی کی بات بھی اب سوگوار کرتی ہے
وہ مہربان بھی اب ہو تو اس سے کیا حاصل

زمیں پہ دل کی لہو کے درخت ہیں گویا
یہ شعر ہوتے نہیں آسمان سے نازل