EN हिंदी
وہی حالات ہیں فقیروں کے | شیح شیری
wahi haalat hain faqiron ke

غزل

وہی حالات ہیں فقیروں کے

حبیب جالب

;

وہی حالات ہیں فقیروں کے
دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے

اپنا حلقہ ہے حلقۂ زنجیر
اور حلقے ہیں سب امیروں کے

ہر بلاول ہے دیس کا مقروض
پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے

وہی اہل وفا کی صورت حال
وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے

سازشیں ہیں وہی خلاف عوام
مشورے ہیں وہی مشیروں کے

بیڑیاں سامراج کی ہیں وہی
وہی دن رات ہیں اسیروں کے