EN हिंदी
وفادار ہو یا جفا کار تم ہو | شیح شیری
wafadar ho ya jafa-kar tum ho

غزل

وفادار ہو یا جفا کار تم ہو

میر حسن

;

وفادار ہو یا جفا کار تم ہو
جو کچھ ہو سو ہو پر مرے یار تم ہو

اجاڑو مرے دل کو یا پھر بساؤ
مری جان اس گھر کے مختار تم ہو

جدا سب سے ہو اور سب سے ملے ہو
غرض کیا کہوں ایک عیار تم ہو

خدا جانیے دل پہ کیا گزرے آخر
یہ اہل وفا ہے ستم گار تم ہو

بنے اس طبیعت سے کیوں کر کسی کی
ذرا جی میں منصف تو دل دار تم ہو

خفا ہوتے ہیں ہم تو خوش ہوتے ہو تم
جو خوش ہوتے ہم ہیں تو بیزار تم ہو

نہیں بے سبب یہ حسنؔ سرد آہیں
کہیں ان دنوں میں گرفتار تم ہو