وفا میں برابر جسے تول لیں گے
اسے سلطنت بیچ کر مول لیں گے
اجازت اگر سر پٹکنے کی ہوگی
مقفل در یار ہم کھول لیں گے
کسی دن جو پلٹا مقدر ہمارا
بکے جس کے ہاتھوں اسے مول لیں گے
گلوں سے نہ ہوگی جو عقدہ کشائی
گرہ دل کی کانٹے سے ہم کھول لیں گے
ہمیں باغ جانے سے یہ مدعا ہے
ذرا بلبل و گل سے ہنس بول لیں گے
ابھی ہم سے اور ان سے صحبت نئی ہے
جو منہ لگ چلیں گے تو ہنس بول لیں گے
غم یار بھی ابر نیساں ہے اے بحرؔ
جو تپکیں گے آنسو گہر رول لیں گے
غزل
وفا میں برابر جسے تول لیں گے
امداد علی بحر

