EN हिंदी
وفا کے وعدے ہوئے زندگی کے خواب ہوئے | شیح شیری
wafa ke wade hue zindagi ke KHwab hue

غزل

وفا کے وعدے ہوئے زندگی کے خواب ہوئے

عین سلام

;

وفا کے وعدے ہوئے زندگی کے خواب ہوئے
تمہارے عہد کرم میں سبھی خراب ہوئے

بدل گئیں وہ فضائیں ترے بدلتے ہی
مہکتے خواب سلگتے ہوئے سراب ہوئے

مری حیات کی تاریکیاں سمٹ نہ سکیں
بجا کے ماہ ہوئے آپ آفتاب ہوئے

میں سوچتا ہوں کہ وہ لوگ جانے کیا ہوں گے
جنہوں نے پیار کیا اور کامیاب ہوئے

ہمارے میل میں قدرت کا ہاتھ شامل ہے
چلو میں خار سہی آپ اگر گلاب ہوئے