EN हिंदी
وفا کے ساتھ محبت میں نام پیدا کر | شیح شیری
wafa ke sath mohabbat mein nam paida kar

غزل

وفا کے ساتھ محبت میں نام پیدا کر

مخمور جالندھری

;

وفا کے ساتھ محبت میں نام پیدا کر
یوں ہی جہاں میں قیام دوام پیدا کر

ترے لئے نہیں کونین میں جو گنجائش
کسی کے دل ہی میں جائے قیام پیدا کر

ہو جس طرح گزر آندھی کی طرح منزل سے
قدم بڑھا طلب تیز گام پیدا کر

یہ انجم و مہ و خورشید ہو چکے بوڑھے
نئی تجلیٔ بالائے بام پیدا کر

نہ رینگ موسمی کیڑوں کی طرح پستی پر
فلک سے بھی کوئی اونچا مقام پیدا کر

جس انجمن میں گزر ہو ترا مہک جائے
صبا کی طرح شگفتہ خرام پیدا کر

بہت اداس ہے اب رنگ محفل ہستی
جبیں سے صبح تو زلفوں سے شام پیدا کر

ہو ایک ہاتھ میں شمشیر دوسرے میں قلم
انہی کے زور سے دنیا میں نام پیدا کر

نگاہ مست سے ساغر بہت پئے تو نے
اب اور ہی کوئی مخمورؔ جام پیدا کر