EN हिंदी
وفا داری غنیمت ہو گئی کیا | شیح شیری
wafa-dari ghanimat ho gai kya

غزل

وفا داری غنیمت ہو گئی کیا

فہمی بدایونی

;

وفا داری غنیمت ہو گئی کیا
محبت بھی مروت ہو گئی کیا

عدالت فرش مقتل دھو رہی ہے
اصولوں کی شہادت ہو گئی کیا

ذرا ایمان داری سے بتاؤ
ہمیں تم سے محبت ہو گئی کیا

فرشتوں جیسی صورت کیوں بنا لی
کوئی ہم سے شرارت ہو گئی کیا

کتابت روکنے کا کیا سبب ہے
کہانی کی اشاعت ہو گئی کیا

مزار پیر سے آواز آئی
فقیری بادشاہت ہو گئی کیا

گھٹائیں پوچھنے کو آ رہی ہیں
ہماری چھت کی حالت ہو گئی کیا

یہ کیسا جشن ہے اس کی گلی میں
کوئی بندش اجازت ہو گئی کیا