EN हिंदी
واہ کیا ہم کو بنایا اور بنا کر رہ گئے | شیح شیری
wah kya hum ko banaya aur bana kar rah gae

غزل

واہ کیا ہم کو بنایا اور بنا کر رہ گئے

پنڈت جواہر ناتھ ساقی

;

واہ کیا ہم کو بنایا اور بنا کر رہ گئے
وصل کا مژدہ سنایا اور سنا کر رہ گئے

لے گیا شوق اس کے در تک پھر کمی ہمت نے کی
حلقۂ در کو ہلایا اور ہلا کر رہ گئے

میں نے جو اپنے دل گم گشتہ کی پوچھی خبر
سر ہلایا مسکرائے مسکرا کر رہ گئے

غیرت دشمن کی خاطر میری غیرت لائی رنگ
مجھ کو محفل میں بلایا اور بلا کر رہ گئے

کام رونے سے بھی ساقیؔ اپنا کچھ نکلا نہیں
لکھا قسمت کا مٹایا اور مٹا کر رہ گئے