EN हिंदी
اوپر جو پرند گا رہا ہے | شیح شیری
upar jo parind ga raha hai

غزل

اوپر جو پرند گا رہا ہے

شاہین عباس

;

اوپر جو پرند گا رہا ہے
نیچے کا مذاق اڑا رہا ہے

مٹی کا بنایا نقش اس نے
اب نقش کا کیا بنا رہا ہے

گھر بھر کو یہ طاقچہ مبارک
خود چل کے چراغ آ رہا ہے

اب دوری حضوری کیا ہے صاحب
بس جسم کو جسم کھا رہا ہے

یہ وقت کا خاص آدمی تھا
بے وقت جو گھر کو جا رہا ہے

اب میں نہیں راہ میں تو رستہ
میری جگہ خاک اڑا رہا ہے

اول وہ غلط بنانے والا
آخر کو غلط مٹا رہا ہے

وہ قافلہ آ سکا نہیں کیوں
رستہ بھی تو واں سے آ رہا ہے