EN हिंदी
اٹھا ہوں اک ہجوم تمنا لئے ہوئے | شیح شیری
uTTha hun ek hujum-e-tamanna liye hue

غزل

اٹھا ہوں اک ہجوم تمنا لئے ہوئے

احسان دانش

;

اٹھا ہوں اک ہجوم تمنا لئے ہوئے
دنیا سے جا رہا ہوں میں دنیا لئے ہوئے

مدت سے گرچہ جلوہ‌‌ گہ طور سے خموش
آنکھیں ہیں اب بھی ذوق تماشا لئے ہوئے

دنیائے آرزو سے کنارہ تو کر کے دیکھ
دنیا کھڑی ہے دولت دنیا لئے ہوئے

روز ازل سے عشق ہے ناکام آرزو
دل ہے مگر ہجوم تمنا لئے ہوئے

اے کم نگاہ دیدۂ دل سے نگاہ کر
ہر ذرہ ہے حقیقت صحرا لئے ہوئے

ہستی کی صبح کون سی محفل کا ہے مآل
آنکھیں کھلی ہیں حسرت جلوہ لئے ہوئے

دن بھر مری نظر میں ہے وہ یوسف بہار
آتی ہے رات خواب زلیخا لئے ہوئے

دل پھر چلا ہے لے کے ترے آستاں کی سمت
اپنی شکستگی کا سہارا لئے ہوئے

وہ دن کہاں کہ تھی مجھے جینے کی آرزو
پھرتا ہوں اب تو دل کا جنازا لئے ہوئے