EN हिंदी
اٹھ کر ترے در سے کہیں جانے کے نہیں ہم | شیح شیری
uTh kar tere dar se kahin jaane ke nahin hum

غزل

اٹھ کر ترے در سے کہیں جانے کے نہیں ہم

رشید رامپوری

;

اٹھ کر ترے در سے کہیں جانے کے نہیں ہم
محتاج کسی اور ٹھکانے کے نہیں ہم

ٹھہرا ہے عیادت پہ سفر ملک عدم کا
آنے کے نہیں آپ تو جانے کے نہیں ہم

جو تم نے لگائی ہے وہ ہے قدر کے قابل
اس آگ کو اشکوں سے بجھانے کے نہیں ہم

لو آؤ سنو ہم سے غم ہجر کی حالت
گزری ہے جو ہم پر وہ چھپانے کے نہیں ہم

احوال شب غم پہ رشیدؔ آج وہ بولے
قائل ترے اس جھوٹے فسانے کے نہیں ہم