اٹھ جا کہ اب یہ موقع ہاتھوں سے جا رہے گا
یہ کارواں ہے آخر کب تک رکا رہے گا
زخموں کو اشک خوں سے سیراب کر رہا ہوں
اب اور بھی تمہارا چہرہ کھلا رہے گا
یوں تو بہت ہے مشکل بند قبا کا کھلنا
لیکن کھلا تو پھر یہ عقدہ کھلا رہے گا
سرگرمیٔ ہوا کو دیکھا ہے پاس دل کے
اس آگ سے یہ جنگل کب تک بچا رہے گا
کھلتی نہیں ہے یا رب کیوں نیند رفتگاں کی
کیا حشر تک یہ عالم سویا پڑا رہے گا
وقت زوال ہے ہم کھلواڑ دیکھتے ہیں
اٹھیے کہ یہ تماشا یوں ہی لگا رہے گا
یکسر ہمارے بازو شل ہو رہے ہیں یا رب
آخر دراز کب تک دست دعا رہے گا
غزل
اٹھ جا کہ اب یہ موقع ہاتھوں سے جا رہے گا
احمد محفوظ

