EN हिंदी
اٹھ گئی آج چاند کی ڈولی | شیح شیری
uTh gai aaj chand ki Doli

غزل

اٹھ گئی آج چاند کی ڈولی

رشید قیصرانی

;

اٹھ گئی آج چاند کی ڈولی
کتنی ویراں ہے رات کی جھولی

اپنا سایہ سمیٹ کر رکھنا
مجھ سے اک بھاگتی کرن بولی

اب تو جاگ اے شبوں کی شہزادی
تجھ کو سونا تھا عمر بھر سو لی

سانس روکو چراغ گل کر دو
آج بدلے گی چاندنی چولی

میں ہوں ساتھی سلگتے صحرا کا
تو ٹھٹھرتی کرن کی ہمجولی

ایک دریا سنبھل سنبھل کے چلا
ایک کشتی قدم قدم ڈولی

آسماں تو ابھی زمیں پہ نہ آ
میں نے مٹھی ابھی نہیں کھولی

کب تلک کوئی دل پہ کان دھرے
کون سمجھے رشیدؔ کی بولی