EN हिंदी
اسی چمن میں چلیں جشن یاد یار کریں | شیح شیری
usi chaman mein chalen jashn-e-yaad-e-yar karen

غزل

اسی چمن میں چلیں جشن یاد یار کریں

مخدومؔ محی الدین

;

اسی چمن میں چلیں جشن یاد یار کریں
دلوں کو چاک گریباں کو تار تار کریں

شمیم پیرہن یار کیا نثار کریں
تجھی کو دل سے لگا لیں تجھی کو پیار کریں

سناتی پھرتی ہیں آنکھیں کہانیاں کیا کیا
اب اور کیا کہیں کس کس کو سوگوار کریں

اٹھو کہ فرصت دیوانگی غنیمت ہے
قفس کو لے کے اڑیں گل کو ہمکنار کریں

کمان ابروئے خوباں کا بانکپن ہے غزل
تمام رات غزل گائیں دید یار کریں