EN हिंदी
اسے نہ ملنے کی سوچا ہے یوں سزا دیں گے | شیح شیری
use na milne ki socha hai yun saza denge

غزل

اسے نہ ملنے کی سوچا ہے یوں سزا دیں گے

شمیم عباس

;

اسے نہ ملنے کی سوچا ہے یوں سزا دیں گے
ہر ایک جسم پہ چہرا وہی لگا دیں گے

ہمارے شہر میں شکلیں ہیں بے شمار مگر
ترے ہی نام سے ہر ایک کو صدا دیں گے

ہم آفتاب کو ٹھنڈا نہ کر سکے اے زمیں
اب اپنے سائے کی چادر تجھے اوڑھا دیں گے

بھلائے بیٹھے ہیں جس کو ہم ایک مدت سے
گر اس نے پوچھ لیا تو جواب کیا دیں گے

بدن سمیت اگر وہ کبھی جو آ جائے
بدن کو اس کے بدن اپنا با خدا دیں گے