EN हिंदी
اس طرف کیا ہے یہ کچھ کھلتا نہیں | شیح شیری
us taraf kya hai ye kuchh khulta nahin

غزل

اس طرف کیا ہے یہ کچھ کھلتا نہیں

پریم کمار نظر

;

اس طرف کیا ہے یہ کچھ کھلتا نہیں
میرا قد دیوار سے اونچا نہیں

دیکھ آئے اس کو اور دیکھا نہیں
میری آنکھیں اب مرا حصہ نہیں

سونے کو آئی سمندر پر ہوا
اور میرا بادباں کھلتا نہیں

گم ہیں سب اپنی صدا کے شور میں
میں جو کہتا ہوں کوئی سنتا نہیں

ہم بھی اس کو بھول ہی جائیں نظرؔ
وہ بھی ہم کو یاد اب کرتا نہیں