EN हिंदी
اس سے مل کر بھی خلش دل میں رہا کرتی ہے | شیح شیری
us se mil kar bhi KHalish dil mein raha karti hai

غزل

اس سے مل کر بھی خلش دل میں رہا کرتی ہے

محمد اعظم

;

اس سے مل کر بھی خلش دل میں رہا کرتی ہے
وصل کو ہجر سے کیا چیز جدا کرتی ہے

وہ نہ مانے گا پہ ہر شب کوئی موہوم سی آس
اک دیا بن کے در دل پہ جلا کرتی ہے

اوج اوسان پہ چڑھ چڑھ کے محبت کی شراب
جب اترتی ہے تو کچھ اور نشہ کرتی ہے

تجھ میں کیا بات ہے اے دل کہ وفا کیش یہ عقل
میری باندی ہے مگر کام ترا کرتی ہے

ناگہاں پنجۂ قاتل سے میں کیا چھوٹ گیا
اس کی حسرت مرے جینے کی دعا کرتی ہے

آسمانوں میں اڑا کرتے ہیں پھولے پھولے
ہلکے لوگوں کے بڑے کام ہوا کرتی ہے