اس سے مل کر بھی خلش دل میں رہا کرتی ہے
وصل کو ہجر سے کیا چیز جدا کرتی ہے
وہ نہ مانے گا پہ ہر شب کوئی موہوم سی آس
اک دیا بن کے در دل پہ جلا کرتی ہے
اوج اوسان پہ چڑھ چڑھ کے محبت کی شراب
جب اترتی ہے تو کچھ اور نشہ کرتی ہے
تجھ میں کیا بات ہے اے دل کہ وفا کیش یہ عقل
میری باندی ہے مگر کام ترا کرتی ہے
ناگہاں پنجۂ قاتل سے میں کیا چھوٹ گیا
اس کی حسرت مرے جینے کی دعا کرتی ہے
آسمانوں میں اڑا کرتے ہیں پھولے پھولے
ہلکے لوگوں کے بڑے کام ہوا کرتی ہے
غزل
اس سے مل کر بھی خلش دل میں رہا کرتی ہے
محمد اعظم

