EN हिंदी
اس نے جب ہنس کے نمسکار کیا | شیح شیری
usne jab hans ke namaskar kiya

غزل

اس نے جب ہنس کے نمسکار کیا

حبیب جالب

;

اس نے جب ہنس کے نمسکار کیا
مجھ کو انسان سے اوتار کیا

دشت غربت میں دل ویراں نے
یاد جمنا کو کئی بار کیا

پیار کی بات نہ پوچھو یارو
ہم نے کس کس سے نہیں پیار کیا

کتنی خوابیدہ تمناؤں کو
اس کی آواز نے بیدار کیا

ہم پجاری ہیں بتوں کے جالبؔ
ہم نے کعبے میں بھی اقرار کیا