EN हिंदी
اس لب کی خامشی کے سبب ٹوٹتا ہوں میں | شیح شیری
us lab ki KHamushi ke sabab TuTta hun main

غزل

اس لب کی خامشی کے سبب ٹوٹتا ہوں میں

اظہر فراغ

;

اس لب کی خامشی کے سبب ٹوٹتا ہوں میں
دست دعا میں رکھا ہوا آئنہ ہوں میں

اب جا کے ہو سکے گی محبت وثوق سے
خود سے بچھڑتے وقت کسی سے ملا ہوں میں

آباد ہے خزانے کی افواہ سے وجود
متروک جنگلوں کا کوئی راستہ ہوں میں

دستار کاغذی ہے فضیلت ہے نام کی
چھوٹوں کی مہربانی سے گھر میں بڑا ہوں میں

رو کر نہ سویا جائے تو کیا نیند کا جواز
بستر کی ہر شکن میں پڑا جاگتا ہوں میں

ہوں اپنی روشنی کی اذیت میں مبتلا
جلتا ہوا چراغ ہوں الٹا پڑا ہوں میں