EN हिंदी
اس کو پا جاؤں کبھی ایسا مقدر ہے کہاں | شیح شیری
usko pa jaun kabhi aisa muqaddar hai kahan

غزل

اس کو پا جاؤں کبھی ایسا مقدر ہے کہاں

محب عارفی

;

اس کو پا جاؤں کبھی ایسا مقدر ہے کہاں
اور اٹھا لوں اس سے دل یہ زور دل پر ہے کہاں

گھٹ کے رہ جائے نہ سر ہی میں کہیں ذوق سجود
میں تو سر ہر در پہ رکھ دوں پر کوئی در ہے کہاں

نغمہ ریزی ساز کی بازی گری مطرب کی ہے
نغمہ کوئی بے نوا تاروں کے اندر ہے کہاں

اس کے ہونٹوں سے جھلکتی ہے مری لب تشنگی
کھنچ رہی ہے مے کہاں پر اور ساغر ہے کہاں

میں وہاں رہتا ہوں گنجائش جہاں میری نہیں
کیا کہوں کس گھر میں رہتا ہوں مرا گھر ہے کہاں

خود کو دیکھا ہے جب ان آنکھوں میں جھانکا ہے محبؔ
مجھ کو اتنا قرب خود سے بھی میسر ہے کہاں