EN हिंदी
اس کو آداب بچھڑنے کے سکھاتا ہوا میں | شیح شیری
usko aadab bichhaDne ke sikhata hua main

غزل

اس کو آداب بچھڑنے کے سکھاتا ہوا میں

اظہر عنایتی

;

اس کو آداب بچھڑنے کے سکھاتا ہوا میں
جاتے جاتے اسے سینہ سے لگاتا ہوا میں

بڑھ گئے مجھ سے بھی کچھ ہاتھ ملانے والے
اس سے دیکھا گیا جب ہاتھ ملاتا ہوا میں

احتجاجوں کا مرے عشق سے آغاز تو ہو
اس کے کوچے میں چلوں شور مچاتا ہوا میں