اس کی چاہ میں اب کے یہ بھی کمال ہوا
خود سے میں باہر آیا تو ایک مثال ہوا
درد کی بیڑی شام سے ہی بج اٹھتی ہے
میں تو اس کے فراق میں اور نڈھال ہوا
وہ میری تعریف کا اب محتاج نہیں
وہ چہرہ تو خود ہی ایک مثال ہوا
خود ہی چراغ اب اپنی لو سے نالاں ہے
نقش یہ کیا ابھرا یہ کیسا زوال ہوا
اب تو سناٹا بھی بولتا لگتا ہے
اپنے آپ میں یہ بھی ایک کمال ہوا
میں اپنی تنہائی سے شاید عاجز تھا
اس آہٹ کا ورنہ کیسے خیال ہوا
وہ بھی مجھ کو بھلا کے بہت خوش بیٹھا ہے
میں بھی اس کو چھوڑ کے طورؔ نہال ہوا
غزل
اس کی چاہ میں اب کے یہ بھی کمال ہوا
کرشن کمار طورؔ