EN हिंदी
اس کے سوا کیا اپنی دولت | شیح شیری
uske siwa kya apni daulat

غزل

اس کے سوا کیا اپنی دولت

حرمت الااکرام

;

اس کے سوا کیا اپنی دولت
سوز تمنا درد بصیرت

اپنے علاوہ کون ملے گا
کس سے کرنے جائیں عداوت

سکوں کا بازار ہے دنیا
ملتی کیا احساس کی قیمت

ناخن دوراں اور غضب تھا
بھرتا بھی کیا زخم فراست

ہر دھڑکن افسانہ بن کر
کھول رہی ہے دل کی حقیقت

زخموں پھولوں کی یہ دنیا
دل کا جہنم آنکھ کی جنت

کتنے تجربے ایک تمنا
کتنے خواب اور ایک محبت

بتکدۂ فن تیری خاطر
گڑھتا ہوں تخئیل کی مورت

کرتے حرمتؔ کی غم خواری
غم نے کہاں دی اتنی مہلت