اس کا خیال خواب کے در سے نکل گیا
پھر میں بھی اپنے دیدۂ تر سے نکل گیا
پلکیں بھی بہہ گئیں خس و خاشاک کی طرح
میں اپنے ساحلوں کے اثر سے نکل گیا
تنہائی سے تھی میری ملاقات آخری
رویا اور اس کے بعد میں گھر سے نکل گیا
جب شمع انتظار اٹھا لی منڈیر سے
دست ہوا بھی حلقۂ در سے نکل گیا
رستے میں آنکھ تھی سگ مامور کی طرح
دل میں جو چور تھا وہ کدھر سے نکل گیا
اب لے لے مجھ کو اپنی ہتھیلی کی اوٹ میں
میرا ستارہ برج سفر سے نکل گیا
میرے ہی ساتھ گھر میں نظر بند تھا تو پھر
تیرا خیال کون سے در سے نکل گیا
غزل
اس کا خیال خواب کے در سے نکل گیا
عباس تابش

