اس اک امید کو تو راحت سفر نہ سمجھ
ہے راستے میں کہیں سایۂ شجر نہ سمجھ
جو سامنے نہ رہا اس کا عکس آنکھ میں ہے
اب اتنا خالی بھی یہ کاسۂ نظر نہ سمجھ
جو روح میں نہ اتر جائے وہ جمال نہیں
جو دل گداز نہ کر دے اسے ہنر نہ سمجھ
نظر پرکھ دل مجروح نشتروں پہ نہ جا
ہر آنے والے کو تو اپنا چارہ گر نہ سمجھ
جو فصل گل کی تمنا میں ہو گئے برباد
وہ بامراد ہیں غم ان کا بے ثمر نہ سمجھ
ہر ایک گھر میں نہ جب تک چراغ جل جائے
کمالؔ روشن و آباد اپنا گھر نہ سمجھ
غزل
اس اک امید کو تو راحت سفر نہ سمجھ
حسن اکبر کمال

