EN हिंदी
اس گھڑی کچھ تھے اور اب کچھ ہو | شیح شیری
us ghaDi kuchh the aur ab kuchh ho

غزل

اس گھڑی کچھ تھے اور اب کچھ ہو

رضا عظیم آبادی

;

اس گھڑی کچھ تھے اور اب کچھ ہو
کیا تماشا ہو تم عجب کچھ ہو

مجھ کو کچھ دل پر اختیار نہیں
تمہیں اس گھر کے اب تو سب کچھ ہو

کچھ نہیں بات تس پہ یہ باتیں
قہر کرتے ہو تم غضب کچھ ہو

بہت کی شرم تھوڑی سی پی کر
اس کے رکھتا ہوں لب پہ لب کچھ ہو

عشق بازی نہیں رضاؔ بازی
پہلے جاں بازی کیجے جب کچھ ہو