اس ابر سے بھی قباحت زیادہ ہوتی ہے
جسے برسنے کی عادت زیادہ ہوتی ہے
وہ آبشار ہیں اس کے لبوں میں پوشیدہ
کہ جن سے پیاس کی شدت زیادہ ہوتی ہے
وہ میرے پاس نہ آنے کو دیتا ہے ترجیح
جب اس کو میری ضرورت زیادہ ہوتی ہے
رہوں جو گھر میں تو تنہائی کاٹنے آئے
چلوں جو راہ تو وحشت زیادہ ہوتی ہے
میں اک شجر ہوں مگر برگ و بار سے آزاد
ہوا کی مجھ پہ عنایت زیادہ ہوتی ہے
یہاں ہمارے بھی دن تھے بزرگ کہتے ہیں
نئے لہو میں بغاوت زیادہ ہوتی ہے
غزل
اس ابر سے بھی قباحت زیادہ ہوتی ہے
اسعد بدایونی

