EN हिंदी
عقدے الفت کے سب اے رشک قمر کھول دئیے | شیح شیری
uqde ulfat ke sab ai rashk-e-qamar khol diye

غزل

عقدے الفت کے سب اے رشک قمر کھول دئیے

رشید لکھنوی

;

عقدے الفت کے سب اے رشک قمر کھول دئیے
سینہ یوں چاک کیا داغ جگر کھول دیئے

سب حسینوں نے مرے قتل پہ کمریں باندھیں
ڈورے تلواروں کے اور بند سپر کھول دیئے

آ گیا ہوش تری چال کے مشتاقوں کو
حشر کی سن کے صدا دیدۂ تر دیئے

پائی تاروں نے ضیا بڑھ گئی تاریکئ شب
اس نے منہ ڈھانپ کے کانوں کے گہر کھول دیئے

عام باراں کی طرح سے ہے کرم ساقی کا
آئی برسات کہ میخانے کے در کھول دیئے

جا عجب کی نہیں گر اہل محبت روئے
میرے ماتم میں حسینوں نے بھی سر کھول دیئے

آنکھیں کھولے ہوئے سب دیکھ رہے ہیں تجھ کو
دل کے جانے کو یہ عشاق نے در کھول دیئے

امتحان حسرت پرواز کا منظور ہوا
ذبح کر کے مجھے صیاد نے پر کھول دیئے

شرم آئے گی مجھے لوگ سمجھ جائیں گے
تم نے گیسو مرے لاشے پر اگر کھول دیئے