ان کی شرمندۂ احسان سی ہو جاتی ہے
یہ نظر مل کے پشیمان سی ہو جاتی ہے
تم نے چھینا ہے مرے دل کا دیا آنکھ کی لو
ان اندھیروں میں بھی پہچان سی ہو جاتی ہے
آنکھ کا شہر ہو آباد تو دل کی بستی
آپ ہی آپ سے ویران سی ہو جاتی ہے
ان کو پہچان کے بھی تازہ ستم پر شبنمؔ
اتنی نادان ہے حیران سی ہو جاتی ہے
غزل
ان کی شرمندۂ احسان سی ہو جاتی ہے
شبنم شکیل

