EN हिंदी
ان کی آمد ہے گل فشانی ہے | شیح شیری
unki aamad hai gul-fishani hai

غزل

ان کی آمد ہے گل فشانی ہے

آلوک مشرا

;

ان کی آمد ہے گل فشانی ہے
رنگ خوشبو کی میزبانی ہے

کیسی ہوگی نہ جانے شام عمر
صبح جب ایسی سر گرانی ہے

موت کا کچھ پتہ نہیں لیکن
زندگی صرف نوحہ خوانی ہے

مرنے والا ہے مرکزی کردار
آخری موڑ پر کہانی ہے

خودکشی جیسی کوئی بات نہیں
اک ذرا مجھ کو بد گمانی ہے

یہ جو بارود ہے ہواؤں میں
آگ تھوڑی سی بس لگانی ہے

اس کا لکھا ہی جی رہا ہوں میں
اس کی بابت ہی یہ کہانی ہے